خود سر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خود لائے، ضدی، مفرور، خود پسند۔ "ہاں اگر وہ اتنا خود سر نہ ہوتا اور عقل سے کام لے سکتا تو اس کی زندگی سنور ہی جاتی۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٧٢ ) ٢ - سرکش، باغی۔ "سرسید تنہا اس خود سر جماعت کے مجمع میں گئے۔"      ( ١٩٣٨ء، حالاتِ سر سید، ١٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'سر' لگانے سے مرکب 'خود سر' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خود لائے، ضدی، مفرور، خود پسند۔ "ہاں اگر وہ اتنا خود سر نہ ہوتا اور عقل سے کام لے سکتا تو اس کی زندگی سنور ہی جاتی۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ٢٧٢ ) ٢ - سرکش، باغی۔ "سرسید تنہا اس خود سر جماعت کے مجمع میں گئے۔"      ( ١٩٣٨ء، حالاتِ سر سید، ١٧ )